Australia
+61 455 388 733
support@pcia.info

بزنس آئیڈیا

Pakistani Community in Australia

بزنس آئیڈیا

دوپہر کے وقت میں کھانا بنانے میں مصروف تھا۔چھڑا ہاؤس (Bachelor Accomodation)میں کھانا پکانے کی میری باری تھی اور شام کی شفٹ بھی تھی۔ اتنے میں ایک دوست کی پاکستان سے کال آئی کہ یار تیمور ایک اسٹوڈنٹ آ رہا ہے آج رات بارہ بجے اسے ملبورن ائرپورٹ سے پکِ کر لینا، بیچارہ پہلی دفعہ آ رہا ہے۔ میرے پاس نہ کرنے کی گنجائش نہیں تھی سو اس کا نام اور فلائٹ نمبر پوچھ کر فون بند کر دیا۔ اب شفٹ بھی بارہ بجے ختم ہونی تھی اور اس کی فلائٹ بھی اسی وقت تھی۔ خیر کسی نہ کسی طرح میں سوا بارہ بجے ملبورن ائیرپورٹ پہنچ گیا۔ آفس سے A3 پیپر پر اس کا بڑا سا نام لکھ (اسے ہم “جمورا” کہہ لیتے ہیں)کر ساتھ لے آیا کہ پہلی دفعہ آ رہا ہے کہیں مشکل نہ ہو اسے۔

فلائٹ پہنچ چکی تھی اور مسافر باہر آ رہے تھے۔ ایک اسٹوڈنٹ نما چیز نظر آئی لیکن وہ نام پڑھ کر آگے گزر گئی۔ بارہ سے ایک اور ایک سے ڈیرہ بج گئے لیکن وہ بندہ نہ نکلا۔مجھے غصہ کم اور پریشانی زیادہ تھی کہ کہیں اندر نہ قابو آیا ہو۔ کیوں کہ یاد دہانی کے باوجود ہم اچار، پنجیری، فر وزن شامی کباب، اور سیگریٹ وغیرہ لانا ثواب سمجھتے ہیں۔ جب دو بج گئے تو میں باہر ٹیکسی رینک میں دیکھنے آیا تو وہی بھائی صاحب کھڑے تھے جو مجھے اسٹوڈنٹ نما لگے تھے۔ میں نے ہیلو کرکے نام پوچھا تو کہتا ہے جی یہ میرا ہی نام”جمورا” ہے۔ میری ایسی “تپی” کہ بس۔ میں نے پوچھا یہ اتنا بڑا نام نظر نہیں آیا تو بولا میں سمجھا کوئی اور “جمورا” ہے۔

خیر گاڑی میں بٹھایا اور اسے فون دیا کہ ڈائریکٹ کال کر کے گھر بتا دو کہ خیریت سے پہنچ گئے ہو۔ گھر کال کر کے کہتا ہے کہ “ابو جی وہ فلاں فلاں کے ڈرائیور نے پِک کر لیا ہے اور ڈرائیور بڑا تمیز والا ہے، لگتا ہے تنخواہ اچھی دیتے ہیں۔” میرا پارہ ہائی ہونا شروع ہو گیا۔ میں نے ایڈریس پوچھا تو بولا کوئی Fawkner محلہ ہے، اس کے Major Road کی دوسری چورنگی سے بائیں ہاتھ تیسرا گھر ہے۔ نشانی کے لئے گھر کے باہر بہت ساری جوتیاں پڑی ہیں۔ میں نے گاڑی ایک طرف روک کر کہا دیکھو بھائی پہلی بات میں کسی کا “ڈرائیور” نہیں، دوسرا گھر کا پورا پتہ بتاؤ تاکہ میں گوگل میں ڈال کر صحیح جگہ پہنچاؤں یہ نہ ہو آدھی رات کو نیا ڈرامہ ہو۔ خدا خدا کر کے پہنچے تو جوتیاں تو ڈھیروں پڑی تھیں پر کسی نے دروازہ ہی نہیں کھولا۔ میں اسے گھر لے گیااور اگلے دن اسے اس کے جاننے والوں کے پاس چھوڑ دیا۔

اگلے ویک اینڈ پر گھر پر باربی کیو تھا۔ کافی دوست آئے ہوئے تھے، میں نے “جمورے” کو بھی انوائٹ کیاکہ چلو اس بہانے دل بہل جائے گا۔ باربی کیو کے علاوہ تین چار قسم کے کھانے بھی تھے اور شیشہ بھی کئی (فلیور) کا تھا۔ “جمورا” آیا،باربی کیو کھایا، شیشہ پیا، بکلاوہ کھایا، آخر میں چائے پی کر جانے لگا تو کہتا ہےتیمور بھائی آپ سے ایک پرائیویٹ بات کرنی ہے۔ میں کہا جی ضرور۔ کہتا ہے میرے پاس ایک “بزنس آئیڈیا “ ہے۔ آپ لطف بھی اٹھاؤ گے اور کمائی بھی، ایک تیر سے دو شکار۔ میں نے پوچھا وہ کیا، تو کہتا ہے آپ نے کتنی محنت سے یہ سارا کھانا بنایا ہے، اتنا خرچہ بھی کیا۔ جتنے دوست آتے ہیں ویک اینڈ پر، ان سے فی بندہ کھانے کے دس ڈالر اور دس ڈالر ہی شیشہ کے لینا شروع کر دیں۔ دوستی کی دوستی، بزنس کا بزنس۔ میں نے کہا آئیڈیا برا نہیں ہے۔ سب سے پہلے تو تم بیس ڈالر نکالو۔ وہ میری شکل دیکھنا شروع ہو گیا۔ میں نے پھر اُس کی ایسی طبیعت صاف کی کہ آج تک اُس نے دوبارہ ایسا آئیڈیا نہیں دیا۔ آپ میں سے کوئی اس “آئیڈیا” سے فائدہ حاصل کرنا چاہے تو ضرور، میں روئلٹی نہیں مانگوں گا۔ اور اگر آپ کو کبھی کسی نے ملتا جلتا آئیڈیا دیا ہو تو شئیر ضرور کریں اور مزید تحریریں پڑھنے کے لئے ہمارا پیج لائک کریں RJtaimoor

Leave a Reply