کیا سائنس کا علم حاصل کرنا اور سائنسدان ہونا ملحد ہونے کی نشانی ہے؟ کیا سائنس اور قرآن میں تفریق کرنا اور سائنس کو قرآن کے منافی قرار دینا ہی حق بات ہے؟

کل تک تو اشرف تھانوی صاحب نے لاؤڈ سپیکر کو غیر شرعی قرار دیا ہوا تھا اور اسی طرح احمد رضا بریلوی پرنٹنگ پریس کو شیطانی مشین قرار دیتے تھے۔ کیا وہ صحیح تھے یا اب کے علماء صحیح ہیں؟

کچھ عرصہ قبل کیمرے کو بھی شیطان کی شیطانی کہا جاتا تھا اور آج ہر عالم اور مفتی ٹی وی پر آنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے۔ مفتی منیب نے سال میں ایک بار ٹی وی پر آ کر چاند کا بتانا ہوتا ہے اور سکرین ٹائم کے چکر میں ایک چھوٹا سا اعلان کرنے میں جناب کو گھنٹہ لگ جاتا ہے۔

احمد رضا بریلوی نے پورا زور لگا دیا کہ زمین ساکن ہے لیکن کوئی ایک دلیل بھی پیش نہیں کی۔ یہ جو ہم آج پوری دنیا میں تماشہ بنے ہوئے ہیں اس کی وجہ بھی چند علماء ہیں جنہوں نے نہ تو قرآن کو سمجھنے کی کوشش کی اور نہ ہی مشاہدے جیسی نعمت کا حق ادا کیا۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ ہمارے یہ دو ڈھائی سو سال پرانے والے علماء صحیح تھے

اور یہ ہی نظامِ قدرت کو صحیح سے سمجھ سکے تو پھر انہوں نے انسانوں کی فلاح کیلئے کیا ایجاد کیا؟

میں بتاتا ہوں انہوں نے کیا کیا؟ انہوں نے اس بات کو ثابت کیا کہ چارپائی کی پوندی نہانے کیلئے ہوتی ہے تاکہ جماع کے بعد فورًا غسل کیا جائے جبکہ یہ اصل بات بھول گئے کہ پوندی چارپائی کسنے کیلئے ہوتی ہے۔

میری نزدیک وہ شخص ان علماء سے لاکھ درجے افضل ہے جس نے اسٹیتھوسکوپ ایجاد کیا تاکہ ڈاکٹر کو ہر بار خاتون مریضہ کی چھاتی سے سر لگا کر دل کی دھڑکن نا سننی پڑے۔

میرے نزدیک وہ شخص ان علماء سے بہت افضل ہے جس نے کتابوں کو پی ڈی ایف میں بنانے کا سافٹ ویئر بنایا تاکہ ہر شخص تک حدیث کی کتب پہنچ سکیں اور وہ خود مطالعہ کر کے علماءِ سُو کی مکاریاں اور بے ایمانیاں پکڑ سکے۔

عجیب مزاق ہے کہ سائنس کی مدد سے ایجاد کردہ موبائل کے ذریعے ہم سائنسدانوں اور سائنس کو گالیاں دے رہے ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)