Australia
+61 455 388 733
support@pcia.info

آسٹریلوی دوست

Pakistani Community in Australia

آسٹریلوی دوست


پاکستان میں تھا تو صرف چند اقسام کے دوستوں سے پالا پڑا۔ جیسے کہ بچپن کے، محلے کے، اسکول، کالج یا یونیورسٹی کے یا پھر کچھ ڈرامے باز دوست۔ آسٹریلیا میں معاملہ اس کے بلکل برعکس ہے۔ یہاں پر اتنی اقسام پائی جاتی ہیں کہ شائد میں سب کو شامل نہ کر سکوں تو آپ ان کو اپنے تجربے کے حساب سے آخر پر شامل کر سکتے ہیں-

سب سے پہلے آتے ہیں وہ دوست جو ائرپورٹ پر اترتے ساتھ ہی پہلا سوال کرتے ہیں، کل سے جاب کہاں شروع کر رہا ہوں؟

کچھ ایسے دوست ہوتے ہیں جنہیں ہر ملنے والا “دیسی” دوست لگتا ہے۔ ٹرین ہیں ہوں ہا پھر کسی جگہ کھانے پر، ان کا دل ہوتا کہ بس ہر دیسی سے پکی دوستی ہوجائے

ایسے بھی ہیں جن کو یا تو آپ کام پڑنے پر یاد آتے ہو اور یا پھر صرف عید کے عید۔

کچھ تو جو آسٹریلیا آنے سے پہلے تو فیس بک پر آپ کو کہتے ہیں “تیموریار فکر نہ کر” لیکن جب آپ پہنچ کر کال کریں تو زیادہ تر تو کال اٹھاتے نہیں اور اگر بات ہو جائے تو ان کی ویک اینڈ پر بھی شفٹ آ جاتی ہے

زیادہ محتاط دوست انڈوں پر نام اور دودھ کی بوتل پر —— لائن لگا کر ساتھ میں تاریخ اور نام لکھ کر فریج میں رکھتے ہیں تا کہ کوئی اور گھر والا استعمال نہ کر لے

“مامے خاں” قسم کے دوست بھی ہوتے ہیں جنہں ہر کسی کے معملات میں ٹانگ اڑانے کا شوق ہوتا ہے اور دعوٰی یہ کرتے ہیں کہ قسمیں جیمز کُک (James Cook) کو انہوں نے ہی بتایا تھا کہ آسٹریلیا کی بنیاد یہاں رکھو

ٹیکسی اور اُوبر چلانے والے وہ دوست بھی ہوتے ہیں جن کا ہر روز آپ کے گھر کے بلکل پاس فئیر (Fare)عین اس وقت لگتاہے جب آپ کے کھانے کا وقت ہوتا ہے۔

ریسٹورنٹ پر لیموں نچوڑ دوست بھی ساتھ ہوتے ہیں جو ہر دفعہ کھانا کھا کر سب سے پہلے ہاتھ دھونے چلے جاتے ہیں اور جب یقین ہو جائے کہ اب ادائیگی ہو چکی ہو گی تو آتے ساتھ بولتے ہیں، پیمینٹ payment میں کروں گا

کچھ دوستوں کی زندگی کا مقصد ہی دوسروں سے پارٹی لینا ہے۔
سالگرہ کی پارٹی، پی ٹی ای کی پارٹی، پی آر کی پارٹی، شادی کی پارٹی اور خود اپنی دفعہ کہتے ہیں سالگرہ منانا انگریزوں کا کام ہے ہمیں اپنے اعمال کی فکر کرنی چاہیے

کنجوس دوست فون کر کے کہتے ہیں کہ “مٹن کڑاہی ای کھانی اے” اور جب آپ کو دعوت پر بلائیں تو کہتے ہیں کہ “ڈائٹنگ شروع کیتی اے” سبزیاں کھانی چاہئیں

ایسے بھی دوست ہوتے ہیں جن کی زندگی کا مقصد سارا دن سونا اور رات بھر شیشہ، کرکٹ، کیرم، سنوکر، تاش یا “پکے “پینا ہوتا ہے۔

ایک خاص قسم بھی ہے دوستوں کی جو “پیتے” تو دبا کے ہیں لیکن ڈبل روٹی (bread) حلال اجزاء والی ہی کھاتے ہیں

سوشل میڈیا سٹار جو بس صرف فیس بک پر سیلفیاں ڈالتے ہیں اور ہر سیلفی کے ساتھ ایک فلسفے بھری caption ضرور دینی ہوتی ہے۔

کچھ دوست تو شام و شام اپنی اس ماں سے بات کرنے کمرے میں چلے جاتے ہیں جس کے بارے میں حقیقی ماں بھی پوچھتی ہے کہ “ایہہ کہڑی ماں نال گل کر رہیاں ویں”

چوہدری دوست بھی ہوتے ہیں جو اپنی پڑھائی، نوکری اور گھر کے کام چھوڑ کرہر وقت فون پر پاکستان کی “پریوں” (پنچائت /جرگہ) نمٹاتے رہتے ہیں

زیادہ تر وہ دوست آسٹریلیا میں پائے جاتے ہیں جو شروع میں “مکھن” اور بعد میں” چونا”لگاتے ہیں

ان سب دوستوں میں چند ایسے بھی دوست ہوتے ہیں جو جگری دوست ہوتے ہیں۔ یہ خونی رشتوں سے بھی زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ جب پاکستان جاتےہیں تو ان کے سامان میں آدھا سامان آپ کا ہوتا ہے۔ آپ کے ماں باپ ان کو اپنی اولاد جیسا پیار دیتے ہیں۔ انہی دوستوں کے بچوں کے ساتھ آپ کے بچے بڑے اور ُان کی بیگمات کے ساتھ آپ کی بیگمات بوڑھی ہوتی ہیں۔

آخر میں یہ کہوں گا کہ ہزار اختلاف سہی لیکن بتائے گئے سارے دوستوں کے ساتھ آسٹریلیا کی زندگی میں بہار ہے۔ اب آپ کے جو دوست احباب اس فہرست میں شا مل نہیں ان کے بارے میں بتائیں اور اگر ہیں تو انہیں ٹیگ کریں rjtaimoor ۔ شکریہ

Leave a Reply