Australia
+61 455 388 733
support@pcia.info

گرم حمام (پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا)

Pakistani Community in Australia

گرم حمام (پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا)

گرم حمام (پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا)

اس تحریر کےلکھنے کا مقصد آسٹریلیانئے آنے والے پاکستانیوں کو گرم حمام کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔ تھواڑا اپنے بارے میں بتاتا چلوں تا کہ آپ کو اصل کہانی سمجھ آئے اور آپ میرے والی شر مندگی سے بچ جائیں۔ میرا نام تیمور ہے، بچپن پھالیہ منڈی بہاالدین میں گزرا، لڑکپن دبئی اور جوانی آجکل آسٹریلیا میں گزار رہاہوں۔ جو سفر “ ہورسنا یار” سے شروع ہوا، “کیف حالک حبیبی” سے ہوتا ہوا اب “ھوؤ یو گو ئنگ میٹ” تک پہنچا ہے اس میں گرم حمام ایک خاص مقام رکھتا ہے۔

ہوا یوں کہ آسٹریلیا با ؤ شا ؤ بن کے آیا لیکن کچھ ہی دنوں میں بالوں کی کھیتی ایسے بڑھنے لگی جیسے غریب پر ادھار بڑھتا ہے۔ پاکستان میں جب بھی بال کٹوانے جاتے تھے تو دو سے تین گھنٹے پار تھے۔ پہلے تو باری ہی نہیں آتی اور جب آتی تھی تو راجہ جی ہمیشہ مرضی کے برعکس ہی کاٹتے تھے۔ جو کپڑا پہنایا جا تا تھا اس کا رنگ اس زمانے میں سفید ہوا کرتا تھا جب چونیوں اٹھائوں سے آپ آدھی دکان خرید لیتے تھے۔ “وتر” لگانے کے ساتھ ساتھ راجہ جی کی زبان بھی تیزی سے چلتی تھی ، “مَلک جی سناؤ نوی تازی، وڈے مَلک ہوری دبئی وچ چنگے نوٹ چھاپ رئے نیں؟” ساتھ ساتھ گرم حمام پورے شہر کے لئے بی بی سی اور سی این این کا کام بھی کرتا تھا۔ ملکی اور غیر ملکی بحث ہمیشہ اس بات پہ ختم ہوتی تھی کہ“ منو یاں نا منو، جو کروا رہیا اے امریکہ کروا رہیا اے” اور جب باری آتی تھی اصل کام کی تو ہمیشہ نہ بال برابر کٹتے تھے اور نہ ہی کبھی قلمیں سیدھی ہوتی تھیں- اس کے ازالے کے لئے آخر پر راجہ جی دبا کے مالش کرتے تھے۔

اب یہی سب ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے ملبورن آسٹریلیا میں اتوار کے دن تین سے چار گھنٹے مختص کیے اور گرم حمام کی تلاش شروع کر دی۔ St Albans کے علاقے میں ایک حجام کی دکان نظر آ ہی گئی جس کے باہر کافی رش دیکھا، پہلے تو لگا شائد راجہ جی ساتھ میں دیگ بھی بانٹ رہے ہیں۔ لیکن قریب جا کر پتہ چلا کہ ہر کوئی ہماری والی جستجو میں ہی ہے۔آدھے گھنٹے کا بول کے ایک چائنیز نما محترمہ نے نمبر والی پرچی پکرا دی اور بولیں کہ اپنا نمبر آنے پر کرسی پر بیٹھ جانا۔اس دوران میں نے دل ہی دل میں گفتگو کے کئی موضوع ڈھونڈ لئے۔ آخر بتانا تھا “مَلک ہوری” آسٹریلیا آئے ہیں۔

جب کرسی پہ بیٹھا تو اس نے لال رنگ کا کپٹرا ڈال کر پانچ منٹ کے اندر میرے بال کاٹ دئیے اور بولی کاؤنٹر پہ پندرہ ڈالر جمع کروا دو۔ میں تو “وَتر” کے انتظار میں بیٹھا تھا، “پاک چائنہ دوستی” Pak-China Friednship، پر کتنی دلیلیں سوچ کے بیٹھا تھا، اور کچھ نہیں تو ’آسٹریلین اکانومی’ Australian Economy پہ ہی کچھ ہاتھ پیر مار لینے تھے۔ میں کبھی حیرانی سے اسے دیکھوں اور کبھی اپنے بالوں کو، ایسا لگ رہا تھا سیدھا آرمی جوائن کرنے جا رہا ہوں۔ ڈالر ادا کرتے ہوئے دماغ میں بس یہی چل رہا تھا “ملک ہونی Shocked تے حجامنی Rocked”
ایسی مزید دلچسپ آرٹیکل پڑھنے کے لئے لائک کیجئے RJtaimoor. شکریہ

Leave a Reply