Australia
+61 455 388 733
support@pcia.info

زندگی کے نشیب و فراز میں ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب انسان

Pakistani Community in Australia

زندگی کے نشیب و فراز میں ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب انسان

میں نے یہ آرٹیکل پڑھا سوچا آپ سب کے ساتھ شئیر کروں !!!

” زندگی کے نشیب و فراز میں ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب انسان

نااُمید ہوجاتا ہے ،

لیکن ایک بات طے ہے کہ امید پر ہی دنیا قائم ہے

ہمیں خوش رہنے کے لیے کتنی آسائشیں درکار ہیں بلکہ ضروری یہ

ہوتا ہے ہم کتنی آسائشیوں میں خوش رہنا سیکھ جاتے ہیں

ضروری یہ نہیں کہ ہم مایوس کتنے ہیں ؟

ہمارے اردگرد مشکلات اور الجھنوں کا گھیر ا کتنا تنگ ہے بلکہ ضروری

یہ ہے کہ ان مشکلات اور الجھنوں کے جال میں ہم ایک چھوٹی سی

خوشی کو کس طر ح تلاش کرسکتے ہیں؟

زندگی شطرنج کی بازی کی طرح ہے۔ جب سارے راستے بند ہوجائیں تو

ایک راستہ ضرور کھلا ہوتا ہے اور اُسی ایک راستے کو تلاش کرنے کے

لئے ہمیں اپنے ذہن کی تمام کھڑ کیاں کھلی رکھنی ہو تی ہیں۔ اسی

لیے کہتے ہیں” ایک در بند سو کھلے” ہم زندگی میں اکثر اس لیے

مایوس ہوجاتے ہیں کہ ہم اپنے نفس کو بے لگام چھوڑ دیتے ہیں ، اس

کی ہر خواھش کو پورا کرنا چاہتے ہیں ۔ انسان اگر نفس کے تقاضوں کو

پورا کرنے لگے تو نفس بہت طاقتور ہوجاتا ہے اور انسا ن نفس کا غلام

بن جاتا ہے۔ اور اگر ہم نفس کو پسپا رکھیں اور خو د کو مار دیں تو ہم

انسا نیت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہو سکتے ہیں ۔

” بے بسی کے دن لمبے اور راتیں چھوٹی ہوتیں ہیں ۔ ناکامی کے بارے

میں نا سوچا کریں ایسی سوچیں انسا ن کے ذہن کو کمزور اور لاغر

بنادیتی ہیں ۔ ناکامی کو نصیب سمجھ کر قبول کر لینا چاہئے جس کا

دائرہ مہکنے میں وسیع اور سمجھنے میں محدود ہوتا ہے”

مگر ان سے باوجود ہم انسا ن ہیں اور ہم مایوس ہوتے ہیں ۔ میں خود

بھی مایوسی کا شکار ہوتی ہوں اور مایوسی بھی انتہا کی۔ مگر ایسے

میں جب لوگوں کے رویے مجھے مایوس کر دیں اور مجھے دنیا میں

کوئ اپنا نہ نظر آئے اور مجھے لگے کہ میں کسی سے اپنی پریشانی

نہیں کہہ سکتی ہوں اور مجھے لگے کہ مجھے میری طرح کوئی نہیں

سمجھ سکتا ۔

نہر میں بھی اگر پانی اس کی اوقات سے زیادہ ہوجائے تو اس کے

کناروں سے باہر آنے لگتا ہے

اسی طرح وہ سب کچھ جب میری آنکھوں سے عیاں ہونے لگے ، تو میں

شیشے کے سامنے بیٹھ جاتی ہوں اور اپنی پریشانی اپنی ذات سے

کہتی ہوں۔ یا شام کو ڈوبتے سورج کے وقت اکیلی چھت پے جا کے

آلتی پالتی مار کے بیٹھ جاتی ہوں ۔ کچھ دیر فرش پہ لکیریں کھنچتی

ہوں ۔ پھر دیرتک ان کو خالی ذہن کے ساتھ تکتی رہتی ہوں ، پھر اپنی

ذات کا محاصر کرتی ہوں اپنے اعمال کا جائزہ لیتی ہوں۔ ناکامی اور

مایوسی کے بادل ذہن میں اندھیرا کر دیتے ہیں اور پھر بارش ہونے لگتی

ہے، رب کو پکارتی ہوں ، اس سے گلہ کرتی ہوں شکوہ کرتی ہوں ، پھر

خودہی معافی مانگتی ہوں، پھر دعا کرتی ہوں اور دعا میں صرف سکون

مانگتی ہوں ۔ یا میں نمازپڑھتے ہوئے ہر سجدے میں روتی ہوں۔پتا نہیں

کہاں سے آجاتے ہیں اتنے آنسو! اور حیر ت کی بات ہے میرا ذہین ہلکا

ہو جاتا ہے ۔ پر یہ سب میں کسی کے سامنے نہیں کرتی کہ لوگ

مجھے پاگل خیال کریں گے۔ شاید آپ میں سے بھی کو ئی شیشے کے

سامنے بیٹھ کر باتیں کرنے والے کو اکثر پاگل ہی سمجھے ۔

یہ تو رہی میں ، آپ کیسے اپنے آپ کو قابو کرتے ہیں ؟؟؟؟ ۔ “

Leave a Reply