آپ بیتی By ERUM

دل کے کسی گوشہ میں ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ اس دنیا میں کم از کم ایک شخص کو مسلمان کروں اور شہادت کی موت حاصل کروں تاکہ جان کنی کا وقت اور جنت میں جانے کا راستہ آسان بنے۔ پاکستان میں رہ کر تو یہ تقریباً ناممکن تھا کیونکہ غیر مسلموں سے دور دور کبھی واسطہ ہی نہ پڑا۔

پوری زندگی صرف دو غیرمسلموں سے ملاقات ہوئی اور جب ہوئی اُس وقت میری اپنی زندگی میں اتنی مشکلات درپیش تھیں کہ مجھے خود دین کو سمجھنے کی ضرورت تھی۔ پاکستان کی روایت کے مطابق صرف عربی میں قرآن پڑھایا گیا۔

پہلے دن سے تجسس تھا کہ پتہ تو چلے قرآن میں لکھا کیا ہے جو میں پڑھ رہی ہوں آخر اتنی موٹی کتاب ہے، اس میں کیا لکھا ہے۔ قرآن مکمل پڑھ لینے کے بعد ایک دن تجسس کے مارے چھپ کر بڑی مشکلوں سے الماری کے اوپر رکھے ہوئے صندوق میں سے ہری سفید پٹیوں والا لفظ با لفظ ترجمہ والا قرآن نکال کر بڑے شوق سے کھول کر پڑھنا شروع کیا تو کچھ سمجھ ہی نہ آیا۔

بہت کوشش کے باوجود جب کچھ پلّے نہ پڑا تو بند کرکے واپس رکھدیا۔ زندگی آگے بڑھی بچپن سے لڑکپن اور پھر جوانی میں داخل ہوکر زندگی کے جھمیلوں میں گھِر کر کوشش ہی نہ کی کہ معلوم کروں کہ کہاں سے ملے گا ترجمہ والا قرآن جو سمجھ کر پڑھوں اور معلوم کروں کہ اللّٰہ نے حضرت جبر آئیل علیہ اسلام کے ذریعے میرے لیے کیا لکھ کر بھجوایا تھا۔ پچیس سال کی عمر میں پہلی مرتبہ اپنے باس کے کمرہ میں رکھے ترجمہ و تفسیر والے قرآن کو کھولنے کا موقعہ ملا تو سورۃ النساء کی مندرجہ ذیل آیت والا صفحہ کُھلا:

اللہ تمہاری اولاد کے حق میں تمہیں حکم دیتا ہے، ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے، پھر اگر دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو ان کے لیے دو تہائی حصہ چھوڑے گئے مال میں سے ہے، اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لیے آدھا ہے، اور اگر میت کی اولاد ہے تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو کل مال کا چھٹا حصہ ملنا چاہیے، اور اگر اس کی کوئی اولاد نہیں اور ماں باپ ہی اس کے وارث ہیں تو اس کی ماں کا ایک تہائی حصہ ہے، پھر اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے، (یہ حصہ ہوگا) اس کی وصیت یا قرض کی ادائیگی کے بعد، تمہارے باپ یا تمہارے بیٹے، تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون تمہیں زیادہ نفع پہنچانے والے ہیں، اللہ کی طرف سے یہ حصہ مقرر کیا ہوا ہے، بے شک اللہ خبردار حکمت والا ہے۔

سورۃ النساء آیت ۱۳ جب تفسیر پڑھی تو رونگٹے کھڑے ہوگئے اور پہلا خیال دل میں یہ آیا کہ میں یتیم کا مال کھا رہی ہوں کیونکہ ہم چھ سو گز کے محلوں جیسے گھر میں رہتے تھے جس میں سب سے بڑا کمرہ میرے استعمال میں تھا۔ چچا اور ایک پھپھی کے خاندان ہمارے ساتھ اُس گھر میں رہتے تھے۔ تایا اور ایک پھپھی اُس گھر میں نہیں رہتے تھے۔

میرے لیے دن گزارنا دشوار ہوگیا۔ رات کو والد صاحب کو کھانے کے بعد چائے دینے گئی اور کہا کہ مجھے آپ سے ضروری بات کرنا ہے۔ پھر میں نے بتایا کہ آج میں نے سورۃ النساء کی ورثہ والی آیت کا ترجمہ و تفسیر پڑھا ہے اور اُس وقت سے مجھے یہ احساس جرم ہے کہ میں حرام کھا رہی ہوں حرام رہ رہی ہوں اور میں اتنا جانتی ہوں کہ مجھے کوئی حرام کام کرکے اپنی قبر کا عذاب نہیں خریدنا۔

میں نے جب گھر کی تقسیم کی بات کی تو پورے گھر میں بھونچال آگیا۔ میں نے نرمی سے اپنا عندیہ دیا کہ اگر دو سے تین مہینوں میں مجھے کوئی پیش رفت نظر نہ آئی تو میں یہ گھر چھوڑ کر چلی جاؤں گی اور آخرکار میں والدہ کو لے کر اپنے کمپیوٹر سمیت اپنا سارا سامان سمیٹ کر گھر چھوڑ کر نانی کے پاس دوسرے شہر چلی گئی۔

کچھ ہی دنوں بعد میرے والد مجھے لینے آگئے اور بہت مسائل کے بعد آخرکار ورثہ کی تقسیم عمل میں آئی جس کے نتیجے میں پورے خاندان کی دشمنی اور نفرت میرے حصہ میں آئی جو آج بھی موجود ہے لیکن مجھے کوئی پرواہ نہیں کیونکہ میں نے اپنی قبر کا بوجھ ہلکا کیا۔ مجھے اپنے والدین کی آخرت کی فکر تھی۔ میرے لیے اطمینان کی بات ہے کہ میرے دونوں والدین رمضان کے آخری جمعہ کو اس دنیا سے بغیر کسی کو پریشان کیے رخصت ہوئے۔اللّٰہ اُن کو جنت نصیب کرے اور مجھے اُن کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے اور میری اولاد کو میرے لیے۔ آمین!

جستجو انسان کے راستے آسان کرتی ہے اور اللّٰہ نے مجھے ترجمہ والا قرآن ۲۰۱۰ میں رمضان کے مہینہ میں میرے گھر بھجوایا۔ میں نے بصد شوق ایک ایک لفظ پڑھا اور سمجھا۔ اُس کے بعد مجھے ترجمہ پڑھنے اور سننے کا ایک عجیب نشہ سوار ہوگیا کہ صرف عربی پڑھنے میں مجھے کوئی دلچسپی باقی ہی نہ رہی۔

ترجمہ پڑھنے کے بعد آہستہ آہستہ میری زندگی کے حالات بدلنا شروع ہوئے اور ایک کے بعد ایک مسئلہ خود بخود حل ہوتا چلا گیا۔ تین سال بعد آسٹریلیا میں میری نئی زندگی کا آغاز ہوا اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے اللّٰہ نے اپنی محبت میرے دل میں ڈال کر مجھے سارے غموں سے آذاد کردیا۔

آسٹریلیا آنے کے تیسرے دن ہی جب پہلی مرتبہ ایک غیر مسلم نے اسلام کے بارے میں ایک بات پر اعتراض کیا تو زندگی نے پہلی مرتبہ تبلیغ کا موقعہ دیا۔ پچھلے تین سالوں میں بار بار ترجمہ کے ساتھ قرآن پڑھنے کی محنت رنگ لائی اور مجھے خود یقین نہ آیا جب میں نے سارے سوالوں کے جواب دے کر سامنے والے کو مطمئن کردیا۔

اُس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا اور میں قرآن کی تفسیر سمجھنے میں مزید مصروف ہوگئی اور الحمدللّٰہ آج تک ان گنت غیر مسلموں بشمول عیسائی، ہندو، سکھ، یہودی اور ایتھیسٹ کے ساتھ مجمع تک میں سوال جواب کرچکی ہوں۔ الحمدللّٰہ آج تک کسی سوال کے جواب میں مجھے خاموش نہیں ہونا پڑا۔

اس تجربہ نے میری دیرینہ خواہش دل میں جگائی جو الحمدللّٰہ پوری بھی ہوگئی اور میں آج تک تین لوگوں کو کلمہ پڑھوا چکی ہوں۔ یہ تصویر پہلی شہادت کی ہے۔ خود پڑھنے کے بعد مجھے دوسروں کو قرآن کا ترجمہ پڑھوانے کا شوق ہوا۔

پچھلے سال ذوم پر ترجمہ کے ساتھ قرآن پڑھنے کا سلسلہ شروع کیا۔ پورے سال باقاعدگی سے دنیا کے مختلف ممالک سے پاکستانی خواتین کے ساتھ ترجمہ کے ساتھ پڑھ کر قرآن مکمل کیا۔ اب دوسری خواہش کی تمنا ہے اور مجھے قوی یقین ہے کہ شہادت حاصل کرنے کی دوسری خواہش بھی ضرور پوری ہوگیے ۔

انشاءاللّٰہ ♥️ #ارم

Leave a Reply

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)