مرد کا شکوہ

مرد کا شکوہ: “عورتیں بر سر روزگار کو شادی کے لیے سیلیکٹ کرتی ہیں، اسی طرح مرد کو بھی حق ہے کہ وہ جاب والی لڑکی سیلیکٹ کرے یا بغیر جاب والی، کم عمر سیلیکٹ کرے یا جس بھی عمر کا انتخاب کرے، پڑھی لکھی سیلیکٹ کرے یا ان پڑھ، وہاں ہم پھر عورتوں کی حق تلفی کو لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔

” میری معلومات اور رائے: “اے جوانوں کی جماعت!! تم میں سے جس میں نکاح کرنے کی استطاعت ہو، اسے شادی کر لینی چاہیے کیوں کہ نکاح نگاہوں کو جھکانے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے اور جو شخص نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اسے روزہ رکھنا اپنے اوپر لازم کرلینا چاہیے ؛ کیوں کہ روزہ انسانی شہوت کو توڑ دیتا ہے۔” مشكاة المصابيح (2 / 927) اس حدیث سے واضح ہے کہ نکاح کرنے کی صورت ہی استطاعت ہے یعنی عورت کا نان نفقہ اُٹھانے کے قابل ہے تو نکاح کرے ورنہ جوانی تو سب پر آجاتی ہے۔

ہمبستری کے لیے کون تیار نہیں؟ اس حدیث کا پہلا حصہ مہر کی ادائیگی سے شروع ہوتا ہے۔ مرد کا مال عورت پر خرچ ہو۔ مرد بہت محنت سے مال کماتا ہے اس لیے اپنا مال مرد کو بہت پیارا ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہئیے۔ مرد اپنی عزیز ترین چیز صرف اُس پر ہی لٹائے گا جس سے محبت کرے گا۔ پہلے اپنے والدین پر لٹاتا ہے، پھر بہن بھائیوں پر بھی لٹاتا ہے۔ اس کے بعد بیوی اور بچوں پر لٹائے گا تب ہی محبت بھی کرے گا یا دوسرے معنوں میں محبت کرے گا تو لٹائے گا۔ اگر محبت ہی نہیں تو پھر نکاح کا رشتہ کیسا اور کیوں؟؟؟؟

اگر مرد کو نان نفقہ اُٹھانے کی شرط سے آذاد کردیا جاتا تو جو بربادی آج آچکی ہے وہ بہت پہلے آچکی ہوتی۔ شکر ہے کہ ہمارے والدین نے اپنے دور میں اچھا وقت دیکھ لیا۔ چار چیزوں کی وجہ عورتوں سے نکاح کیا جاتا ہے؛ اس کے مال کی وجہ سے، حسب و نسب کی وجہ سے، خوبصورتی کی وجہ سے اور دیانتداری کی وجہ سے تو تم دیندار (لڑکی ) تلاش کرو ، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ۔

صحیح البخاری ۵۰۹۰ ، صحیح مسلم (1466) سنن ابی داود 2047 یہی معیار مرد کو منتخب کرنے کے لیے بھی ہے۔ دینِ اسلام میں مرد سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ درست فیصلے کرے اسی لیے براہِ راست مرد کو ہی نصیحت کی جارہی ہے۔ جب واضح طور پر عورت کو منتخب کرنے کا معیار بتادیا گیا ہے تو اس کے بعد جو بھی دنیاداری کے لیے اپنی من مانی کرے گا تو خسارے کے علاوہ کیا ہاتھ آئے گا لیکن یہ احکامات اور حدیثیں صرف مسلمان مردوں کے لیے ہیں۔

غیر مسلم اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اپنی پسندیدگی کی بنیاد پر ڈیکوریشن پیس، پروڈکٹ یا حسین و جمیل روبوٹ سمجھ کر عورت پسند کی جارہی ہے اور آنے والی نسل کی پرورش کا دور دور تک کوئی خیال نہیں۔ آج تو شادی ہال میں سجا سنوار کر سرکس دکھا کر “اینٹری” کے لیے حسین و جمیل مالدار لڑکی منتخب کی جارہی ہے جس کو تصویریں اور وڈیو بنانے کے لیے فوٹوگرافر مردوں کے گروہ کے درمیان پہلے اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے کہ شوہر کی نظر پڑھنے سے پہلے وہ سارے مرد جی بھر کر عورت کو دیکھ لیں شوہر کا کیا ہے وہ تو اُن کے بعد ساری زندگی ہی دیکھے گا لیکن اب ساری زندگی ایک ہی عورت کو بیوی کی شکل میں دیکھنے کی نوبت ہی نہیں رہی۔ پچھلے زمانے میں پیسہ دے کر طوائفیں بلوائی جاتی تھیں،

آج مفت میں مرد خود بھی ناچ رہا ہے اور اپنی ہی بیوی کو اپنی ہی موجودگی میں سب کے سامنے نچوا رہا ہے۔ پچھلے زمانے میں دولہا کی ماں یا خاندان کی بزرگ خاتون یہ کام انجام دیتی تھیں آج دولہا دلہن کو بستر تک فوٹوگرافر مرد چھوڑ کر آتے ہیں۔اُمید ہے بالی وڈ سے متاثر مرد و عورت آنے والے دنوں میں ہمبستری کی فلمبندی بھی کروائیں گے آخر کو شادی کے جوڑے، بناؤ سنگسار سمیت نائیٹی بھی تو اتنی مہنگی خریدی جاتی ہے تو سب کو دکھا کر اُس کی بھی قیمت وصول ہونی چاہئیے۔

جو عورتیں گاڑی، بینک بیلنس، بنگلہ والوں سے شادی کرنا پسند کرتی ہیں، وہ مرد اگر مالدار ہونے کے ساتھ ساتھ دیندار بھی ہوں تو کبھی بھی اِن لالچی عورتوں کو اپنی ہونے والی اولاد کے لیے منتخب نہیں کریں گے۔ جو دیندار ہیں اور اگر مالدار نہیں ہیں تو انہیں نااُمید ہونے اور شکوے کرنے کے بجائے شکر ادا کرنا چاہئیے کہ وہ ایسی لالچی عورتوں کی پہنچ سے دور ہیں اوراس میں ہی اُن کی عافیت ہے۔ مالدار بے دین مرد اور بے دین لالچی عورتیں صدیوں سے ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔

مرد مال پھینکتا ہے اور بکنے والی عورت خریدتا ہے۔ ہر دوسری عورت نمائش کے لیے تیار کھڑی ہے تو اُس کو اُسی کے جیسے خریدار مرد ملتے ہیں۔ دیندار مرد عنقا ہوتے جارہے ہیں جیسے والدین کی تربیت عنقا ہوتی جارہی ہے۔ دیندار خواتین اور دیندار مرد حضرات موجود ہیں لیکن ڈھونڈنا پڑیں گے۔ بینک بیلنس اور بنگلے کی اُمید نہ ہونے کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ایسے مرد سے نکاح کے لیے تیار ہوں جو برسرِ روزگار ہی نہ ہو۔ #ارم

Leave a Reply

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)