عورت سے مرد کا شکوہ اسلام علیحدگی کی صورت میں بچے باپ کو دیتا ہے۔

عورت سے مرد کا شکوہ اسلام علیحدگی کی صورت میں بچے باپ کو دیتا ہے۔ یہاں عورت کو اختلاف ہوتا ہے۔ اسلام کو پورا مانیں۔ صرف اپنی مرضی کا اسلام نہ چلائیں۔ میری معلومات اور رائے:

تم اُن (مطلّقہ) عورتوں کو وہیں رکھو جہاں تم اپنی وسعت کے مطابق رہتے ہو اور انہیں تکلیف مت پہنچاؤ کہ اُن پر (رہنے کا ٹھکانا) تنگ کر دو، اور اگر وہ حاملہ ہوں تو اُن پر خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ اپنا بچہ جَن لیں، پھر اگر وہ تمہاری خاطر (بچے کو) دودھ پلائیں تو انہیں اُن کا معاوضہ ادا کرتے رہو، اور آپس میں (ایک دوسرے سے) نیک بات کا مشورہ (حسبِ دستور) کر لیا کرو، اور اگر تم باہم دشواری محسوس کرو تو اسے (اب کوئی) دوسری عورت دودھ پلائے گیo سورۃ ال طلاق ، آیت ۶ اس میں کوئی شک نہیں دوسری بات نہیں کہ اولاد باپ کی ذمہ داری ہے۔

اس آیت سے واضح ہے کہ طلاق کی صورت میں بھی مرد کو بچہ کو دودھ پلوانے تک کا معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کیوں؟؟؟ کیونکہ مرد نان نفقہ کا ذمہ دار ہے تو مرد کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ اولاد کو پالے۔ کم سن ہونے کی صورت میں شاید بارہ سال کی عمر تک ماں اولاد کو رکھ سکتی ہے لیکن صرف اُس صورت میں کہ باپ سے بہتر پالنے کے قابل ہو اور دوسرا نکاح نہ کرے۔

یہ بچہ کا حق ہے۔ اکثر مطلقہ عورتیں مردوں سے شکوہ کرتی نظر آتی ہیں جب نکاح کا امیدوار مرد یہ کہہ کر بات ختم کردیتا ہے کہ وہ مطلقہ عورت کو اپنا سکتا ہے لیکن اُس کے بچہ کو نہیں۔ دوسرا مرد کیوں اپنائے کیوں پالے جب بچہ کا حقیقی باپ موجود ہے جس کے ورثے میں بچہ کا حصہ ہے۔

دوسرا مرد اپنے بچے پالے گا کیونکہ اُس کی وراثت میں اُس کے اپنے بچے حقدار ہوں گے۔ ماں کا اولاد کو رکھنے کا مقصد کیا ہے؟؟؟؟ اولاد کو بارہ سال کی عمر تک اللّٰہ کا بندہ بنانا، نماز روزہ رکھنے کے قابل بنانا اور بہترین تربیت کرنا۔ اگر یہ سب کرنے کے قابل ہے تو رکھے ورنہ بچہ کے باپ کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لینے سے کوئی خاطرخواہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا اُلٹا عورت اپنے لیے اللّٰہ کے سامنے مزید احتساب کی ذمہ دار ہوگی لیکن پھر بھی کسی صورت بچہ کو باپ سے علیحدہ کرنے کا حق عورت کے پاس نہیں کہ باپ کو بچہ سے ملنے نہ دے اور بچہ کی شکل تک سے ترسا دے۔

یہ الگ بات ہے کہ بے غیرت باپ خود ہی اپنی اولاد کو نہ پالے پھر انتظار کرے اللّٰہ کے سامنے حاضر ہونے سے جب بچہ کی حق تلفی کا جواب دینا ہوگا۔ بچہ کا حق ہے کہ اُسے ماں اور باپ دونوں کا پیار ملے کیونکہ بچہ دونوں کا ہے کسی ایک کا نہیں۔ شوہر بیوی میں سے جو بھی ایک دوسرے پر ظلم کرے اس کا بچہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اپنی آپس کی دشمنیاں اور بدلے بچہ کی صورت میں لینے کا کوئی فائدہ نہیں، بیچارہ بچہ اپنے ہی ماں باپ کے ہاتھوں ظلم کا شکار ہوتا ہے۔

بچہ کے لیے دونوں ماں باپ برابر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جو مائیں بچہ کو اُن کے باپ سے جدا کرتی ہیں یا جو باپ بچہ کو ماں سے جدا کرتے ہیں وہ اسی اولاد کے ہاتھوں نقصان اُٹھائیں گے کیونکہ حق تلفی اور نا انصافی اللّٰہ کو سخت ناپسند ہیں۔ اللّٰہ کے ناپسندیدہ کام کرنے والے چاہے مرد ہوں یا عورت کبھی سُکھ اور سکون سے نہیں رہتے۔

#ارم

Leave a Reply

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)