کیا جنت حاصل کرنا اب مقصد ہی نہ رہا؟؟؟؟

کیا جنت حاصل کرنا اب مقصد ہی نہ رہا؟؟؟؟

جس نے برائی کی تو اسے بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر صرف اسی قدر، اور جس نے نیکی کی، خواہ مرد ہو یا عورت اور مومن بھی ہو تو وہی لوگ جنّت میں داخل ہوں گے انہیں وہاں بے حساب رِزق دیا جائے گا۔ سورۃ المومن آیت ۴۰ نیکی کرنے والا اور نیکی نہ کرنے والا کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔

نماز پڑھنے والا اور نماز نہ پڑھنے والا کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ اللّٰہ سے ڈرنے والا اور اپنی من مانی کرنے والا کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ اللّٰہ کی راہ میں خرچ کرنے والا اور کنجوس کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ ایمان کے اونچے مرتبہ پر بیٹھا جنت کی مسندوں کا حقدار اور ایمان کے نچلے مرتبہ پر بیٹھا ہوا کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔

نیک عمل کرنے والوں کو پسند کرنے والے اور ناچنے والوں کو پسند کرنے والے کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ محفلوں میں ناچنے والی اور محفلوں میں نہ ناچنے والی کبھی برابر نہیں ہوسکتیں۔ اپنی عورتوں کو لبرلزم کے نام پر کُھلے عام نچوانے والے مرد اور اپنی عورتوں کی عزت و تکریم کرنے والے اور اُن کی عزت کی حفاظت کرنے والے مرد کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔

اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو رد کرکے اپنا سارا وقت اپنی اولاد کی اللّٰہ کے احکامات کے مطابق تربیت کرکے اللّٰہ کا نیک بندہ بنانے کی کوشش کرنے والے والدین اور آج اپنی اولادوں کو شادیوں میں نچوا کر اُن کی وڈیوز بنوا کر سوشل میڈیا پر ڈال کر پیسہ اور داد و تحسین حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے والدین کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔،،،!!!

مجھے کسی کو judge کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ تو قرآن میں صاف صاف لکھا ہے جو لوگوں کی یادداشت میں واپس لے کر آنا آج کی اولین ضرورت ہے کیونکہ اکثریت نے تو قرآن پڑھا ہی نہیں ہے

اور مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کا خراج وصول کرنے والے ایتھیسٹ کی ذہنیت کے مطابق اپنے اُصولوں کو اسلام اور پاکستانی ثقافت کا نام دے کر اپنی زندگی گزار کر اس دنیا سے چلے بھی جاتے ہیں اور اُن کو کوئی یہ سمجھانے والا نہیں ملتا کہ کم از کم ایک مرتبہ قرآن کا ترجمہ اور تفسیر پڑھ تو لو سمجھ تو کو، عمل کرنا نہ کرنا بعد کی بات ہے کیونکہ عمل کرنے کے لیے اللّٰہ ہدایت بھیجتا ہے اور وہ اُن کو ہی ہدایت بھیجتا ہے جو اُس سے رشتہ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور رشتہ بات چیت کرکے ہی جوڑا جاتا ہے۔

یہ رشتہ جوڑنے کے لیے عربی میں رٹو طوطے کی طرح قرآن پڑھنے سے نہیں بنتا جب تک اپنی زبان میں سمجھا نہ جائے۔ ورنہ عربی میں ہو یا چائینیز میں سر کے اوپر سے ہی گزرتا ہے۔ پاکستان کی پچاس فیصد سے زیادہ آبادی جو غریب شمار کی جاتی ہے اور دس فیصد سے بھی کم آبادی جو امیر شمار کی جاتی ہے

دونوں ہی جہالت کے اندھیروں میں ایک دوسرے کے ہمنوا ایک ساتھ ایک ہی راستے پر کھڑے ہیں۔ میری ذمہ داری تو صرف پیغام پہنچانا ہے۔ آج لوگ کس فریب میں مبتلا ہیں کہ اللّٰہ کے احکامات پر چلنے کی کوشش نہ کرکے، کچھ محنت نہ کرکے، قربانی نہ دے کے، شادیوں میں ناچ کے، نفسانی خواہشات کو نہ کچل کر بھی اُن کو نیکوکاروں جیسا بدلہ ملے گا؟؟؟؟؟

اور وہ جنت کے حقدار ہوں گے؟؟؟؟؟ یا جنت حاصل کرنا اب مقصد ہی نہ رہا؟؟؟؟

#ارم

Leave a Reply

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)