ناامیدی پھیلانا بہت بڑا فتنہ ہے۔ غور و فکر اور تحقیق کرنے کی عادت اپنائیں

آدم کو سزا کے طور پر جنت سے نکالا گیا تھا پھر معاف بھی کردیا گیا تھا۔ دنیا سزا دینے کی جگہ نہیں بنائی تھی بلکہ اشرف المخلوقات کے رہنے کے لیے بنائی تھی۔ جنت سے نکالنا سزا تھا دنیا میں بھیجنا نہیں۔ اشرف المخلوقات کا فرشتوں سے اعلی مقام ہے تبھی سجدہ کروایا گیا۔ پھر اسی دنیا کو آدم کے لیے راحت بھی بنایا گیا ورنہ معافی دینے کے بعد واپس جنت میں ہی بلا لیا گیا ہوتا۔ ’’ بلا شبہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں ،رات و دن کے ہیر پھیر اور پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے جانے میں ، ان کشتیوں اور جہازوں میں جو انسانوں کے فائدے کی چیزیں لے کر سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں ، بارش کے پانی میں جسے اﷲ آسمان سے برساتا ہے پھر اس سے مردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے اور زمین میں ہر قسم کی جاندار مخلوق کو پھیلاتا ہے ، ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان و زمین کے درمیان تابع فرمان بناکر رکھے گئے ہیں بے شمار نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو عقل سے کام لیتے ہیں اور غور و فکر کرتے ہیں۔

‘‘ سورۃ البقرۃ آیت ۱۶۴ دنیا وہ مسافر خانہ یا انتظار گاہ ہے جہاں ہم اپنے اعمال کی صورت میں امتحان کی تیاری کررہے ہیں اور جیسی تیاری ہوگی یعنی جیسے اعمال ہوں گے اُسی کے مطابق اپنے لیے خود اپنی سزا یا جزا مرتب کریں گے۔ بخشش یا پھر سزا۔اللّٰہ معاف کرنے والا ہے اس لیے کلمہ گو کو اتنی معافی ہے کہ سزا دینے کے بعد دوزخ سے نکال لیا جائے گا لیکن کفر و شرک کرنے والے اور منافق کو نہیں۔ یہ قرآن میں لکھا ہے۔ دونوں بول اُٹھے کہ : ’’ اے ہمارے پروردگار ! ہم اپنی جانوں پر ظلم کر گذرے ہیں ، اور اگر آپ نے ہمیں معاف نہ فرمایا، اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقینا ہم نامراد لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔ سورۃ الاعراف آیت ۲۳ پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش و نشاط) میں تھے اس سے ان کو نکلوا دیا تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں) سے چلے جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کردیا گیا) ہے سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر ۳۶ پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات حاصل کیے پھر اس کی توبہ قبول فرمائی، بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ سورۃ البقرۃ آیت ۳۷ ہم نے فرمایا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ، جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (اس کی پیروی کرنا کہ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔ سورۃ نمبر 2 البقرۃ آیت نمبر ۳۸ آج کا انسان پہلے اپنا درجہ اور مقام تو سمجھے کہ اُسے نائب بناکر بھیجا گیا تھا۔ لالچ اور حرص کی وجہ سے پستیوں میں ہی گرتا ہی چلا جارہا ہے۔ اپنا وقار کھو کرجانور سے بدتر ہوچکا ہے۔ سانسیں ہونے کے باوجود شکرگزار نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مومن کے لیے یہ دنیا قید خانہ ضرور ہے لیکن سزا کی جگہ اُس کے لیے ہے جو سزا لینے والے کام کرے۔ قید خانہ کا مطلب ہے کوئی بھی کام اپنی مرضی سے آذادی سے نہیں کرسکتا۔ دن سے رات تک ہر کام کرنے میں اللّٰہ کے حکم کے مطابق چلنا ہوگا اگر مسلمان ہونے کا عہدہ لیا ہوا ہے۔ اگر مسلمان ہونے کا عہدہ نہیں لینا تو جو مرضی ہو کرے۔ سزا دینے کے لیے ایک ہی جگہ بنائی گئی ہے

،،،، دوزخ،،!!!! جہاں ہر وقت سزا ہی ملے گی۔ بیشک جن لوگوں کی روح فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ (کفر و فسق کے ماحول میں رہ کر) اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں (تو) وہ ان سے دریافت کرتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے (تم نے اپنے دین اور ایمان کی حفاظت کی نہ سرزمین کفر و فسق کو چھوڑا)؟ وہ (معذرۃً) کہتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور و بے بس تھے، فرشتے (جواباً) کہتے ہیں: کیا اللہ کی زمین فراخ نہ تھی کہ تم اس میں (کہیں) ہجرت کر جاتے، سو یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ سورۃ النساء آیت ۹۷ زندگی کی مشکلات اور دشواریوں کو ہی لوگ سزا کا نام دے دیتے ہیں اور اندازہ ہی نہیں ہے کہ سزا ہوتی کیا ہے؟؟؟؟مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر سزا سے نہیں بچا جاسکتا ہے نہ ہی الزام تراشی کرکے کچھ حاصل ہوسکتا ہے۔ جب تک خود کو خطاوار نہیں سمجھا جائے گا، جب تک اپنی غلطیاں تلاش نہیں کی جائیں گی، جب تک خود کو الزامات نہیں دیے جائیں، جب تک خود کو ظالم نہیں سمجھا جائے گا،،،، تب تک معافی مانگنے کی نوبت نہیں آئے گی اور جب تک معافی نہیں مانگی جائے گی مزید غلطیوں سے بچا نہیں جاسکتا اور بار بار غلطیاں دہراتے رہیں گے تو بے سکونی اور بربادی ہی حاصل زندگی ہوگی۔ لفظوں کے مناسب انتخاب سے مرتب کیے گئے جملے پڑھنے میں منفرد لگتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے شیئر کیے جاتے ہیں۔ اپنی طرف سے گھڑ کر خاص طور سے دین سے متعلق غلط باتیں پھیلا کر لوگوں کو ناامید کرنا اور دین سے بدظن کرنا بہت بڑا فتنہ اور گناہ ہے۔ تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے نااُمید نہ ہو بےشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے بےشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔ سورۃ الزمر آیت ۵۳ اگر ہم اندھی تقلید کرنے کے بجائے اپنی عقل کا استعمال بھی کرلیا کریں کچھ غوروفکر بھی کرلیا کریں تو بہت فائدہ میں رہیں۔ #ارم

Leave a Reply

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)