دوسرا نکاح | آسٹریلیا کا ویزہ پہلے شوہر کو چھوڑنے کو تیار | دوسری شادی کا انصاف کیسے ہوگا؟؟؟

دوسرا نکاح مجھ سمیت کوئی بھی مسلمان مرد و عورت لاکھ اختلاف کرے، شکوہ و شکایت کرے لیکن اللّٰہ نے جو کہہ دیا وہ کہہ دیا۔ جو اللّٰہ کے حکم پر راضی اللّٰہ اُن سے راضی اور جو حکم نہیں بجالاتا وہ اللّٰہ کا نافرمان ہے اور اپنی سزا کے لیے تیار رہے۔ “اور اگر تم یتیم لڑکیوں سے بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ان میں سے دو دو تین تین چار چار سے نکاح کر لو، اگر تمہیں خطرہ ہو کہ انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی سے نکاح کرو۔” سورۃ النساء آیت ۳ یہ قرآن کی واحد آیت ہے جس میں ایک سے زیادہ نکاح کا ذکر ہے۔ کاش ہمارے عالم دین اس آیت کو سمجھانے کا ویسا ہی حق ادا کرتے جیسا ہے۔

پاکستان کے آدھے سے زیادہ مرد حضرات نے اس آیت کو شاید کبھی پڑھا اور سمجھا بھی نہ ہوگا جو بڑھ بڑھ کر چار شادیوں کی بات کرتے ہیں۔ میں نے بھی بچپن سے یہی سنا تھا کہ اسلام میں چار شادیاں جائز ہیں اور اللّٰہ کا حکم سمجھ کر کبھی اس بات پر کوئی اعتراض نہ کیا نہ ہی حق تلفی سمجھا کہ اگر دین کی بات ہے تو یقیناً اس میں کوئی بہتری ہی ہوگی۔ یہ آیت اُس وقت نازل ہوئی جب زمانۂ جاہلیت یعنی اسلام آنے سے پہلے لوگ آٹھ آٹھ دس دس یتیم لڑکیوں سے اُن کے ورثہ میں ملنے والے مال کے لالچ میں نکاح کرتے تھے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی اور حکم دیا گیا کہ زیادہ سے زیادہ چار نکاح رکھ سکتے ہیں اس سے زیادہ رکھنا انسانی فطرت کے خلاف ہے اور انسانی صلاحیت سے باہر ہے۔ جن صحابۂ کرام کی چار سے زیادہ بیویاں تھیں، اسلام قبول کرنے کے بعد بقیہ بیویوں کو اُن سے طلاق دلوائی گئی۔ اس آیت میں چار شادیاں کرنے کی ترغیب ہر گز نہیں دی گئی ہے بلکہ اللّٰہ نے مرد کے فائدے کے لیے اپنا ڈراوا دیا ہے کہ ایک پر ہی اکتفا کرو تو زیادہ بہتر ہے کیونکہ انصاف کرنا اور انصاف قائم رکھنا آسان نہیں اور اگر انصاف نہ کیا تو اُس کی سزا بہت بڑی ہے۔ تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ پاکستان میں عام طور پر پہلا نکاح مرد کے والدین ہی کرواتے ہیں اور دوسرا نکاح وہ اپنی پسند سے کرتا ہے اگر کرتا ہے۔دوسری عورت کی رضامندی کے بغیر کوئی مرد دوسرا نکاح نہیں کر سکتا۔ دوسری عورت اگر بیوہ، طلاق یافتہ، یتیم یا عمر رسیدہ کنواری ہو تو پھر بھی قابل قبول ہو لیکن آج اُس بدترین دور کا آغاز ہوچکا ہے جب حلال کو حرام کرکے اپنے اعمال میں سجایا جارہا ہے۔

حیرت انگیز اور لرزہ خیز انکشافات سامنے آرہے ہیں کہ شادی شدہ عورتیں بھی شادی شدہ مردوں سے غیر ازدواجی معاملات میں ملوث ہیں اور اپنے شوہروں کی امانتوں میں دھڑلے سے خیانت کررہی ہیں جو اللّٰہ کی کھلی نافرمانی ہے۔ اسلام ہر ایک کو حلال طریقے سے سکون حاصل کرنے کا حق دیتا ہے۔ اوّل تو یہ کہ دنیاوی لالچ کے لیے نکاح میں رہتے ہوئے حرام کاری کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟؟؟؟

شوہر اگر نا اہل ہے اور ضرورتیں پوری نہیں کرتا تو علیحدگی اختیار کی جائے اور پھر دوسرے شخص سے نکاح کیا جائے۔ ایک شوہر کی موجودگی میں دوسرے مرد کے ساتھ حرام کاری کرکے اپنی اور اپنی اولاد کی بربادی کی ضامن بننے اور اللّٰہ کے غم و غصہ کو دعوت دینے کا شوق کیوں ہے؟؟؟؟ ان حقائق کا افسوسناک اور المناک ترین حصہ یہ ہے ایک نکاح کرنے کے بعد بھی آج بیشتر عورتیں مال و دولت بشمول آسٹریلیا کا ویزہ حاصل کرنے کے لیے پہلے شوہر کو چھوڑنے کو تیار ہیں اور اللّٰہ کے غیظ و غضب کو براہِ راست دعوت دے رہی ہیں۔ دوسری طرف دنیاوی لالچ کا شکار مرد بھی آج بیوی بچوں کی موجودگی میں آسٹریلیا کا ویزہ حاصل کرنے کے لیے زنا کی طرف جاچکے ہیں اور جو نہیں گئے وہ موقعہ کی تلاش میں ہیں کہ de facto visa میں تو ماں کے لیے بہو بنانے کی بھی ضرورت بھی نہیں۔ یہ حرکتیں تو ہندوؤں اور عیسائیوں میں بھی قابل قبول نہیں۔ غیر شادی شدہ اُن سے دو ہاتھ آگے ہیں کہ چار سال کے لیے paper marriage یا زنا کے عوض آسٹریلیا کی شہریت بھی مل جائے گی۔ اُس کے بعد فرمابرداری سے ماں کی پسند کی شادی کرکے جنت کما کے پورا خاندان آسٹریلیا میں چین کی بانسری بجائے گا۔ دونوں ہاتھ میں لڈو اور سر کڑاہی میں۔ یہ مستند حدیث ہے کہ جو شخص دو بیویوں کے درمیان انصاف نہ کرسکا وہ قیامت کے دن لنگڑا کر چل رہا ہوگا۔ اب خود ہی سوچ لیں کہ پل صراط سے جنت کی طرف پہنچنے کے لیے دوڑ کر گزرنا ہے اور اگر دونوں ٹانگیں سیدھا ہی نہیں چلیں گی تو دوڑ کیسے لگے گی۔ آج مہنگائی کے دور میں ایک عام مرد کے لیے جب بنیادی ضرورتیں پوری کرنا مشکل ہورہا ہے، بچے موبائل فون سے پالے جارہے ہیں کہ میاں بیوی دونوں کے پاس اپنی سگی اولاد کو دینے کے لیے وقت نہیں، بیٹی، ماں اور بہنوں سمیت ایک بیوی کے حقوق ہی پورے ہوجائیں بہت ہے، دوسری شادی کا انصاف کیسے ہوگا؟؟؟

یہ ہر گز نہ سمجھیے گا کہ میں دوسری شادی کے خلاف ہوں لیکن دین کا حکم پتھر پر لکیر ہے۔ مجھے شاید اپنے شوہر کے دوسرے نکاح پر کوئی اعتراض نہ ہو لیکن میں خود کبھی بھی ایک بیوی کی موجودگی میں دوسری بیوی بن کر پوری زندگی ایک عورت اور اُس کے بچوں کی آہیں سمیٹنے اور بد دُعائیں لینے کی بےوقوفی کبھی نہیں کروں گی۔ نکاح چند منٹوں میں ہوجاتا ہے۔ گنے چُنے ماہ و سال کی خوشیوں اور تسکین کے لیے عمر بھر کے لیے کسی کی بددعاؤں میں رہنا کہیں کی عقلمندی نہیں۔ بہت بڑی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے پوری زندگی۔ #ارم ‏https://quran.com/4:3/tafsirs/tafsir-fe-zalul-quran-syed-qatab

 

 

Erum Morning follow on Facebook:  https://www.facebook.com/erummorningstar?mibextid=LQQJ4d

Leave a Reply

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)